بھارت:گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں مورتیاں رکھ کر پوجا پوجا پاٹ شروع،یہ ایک مسجد کا مسلہ نہیں،کیا یہ مسجد رہ گیی ہے؟

وارنسی(انٹرنیشنل ایڈیٹر) فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسلامی عمارتوں پر قبضے کی مہم چلانے والوں کو وزیر اعظم نریندر مودی کی شکل میں نظریاتی سرپرست مل گیا ہے۔شہر کے ہندوؤں کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ گیان واپی مسجد مغل سلطنت کے دوران ہندو دیوتا شیو کے مندر کی جگہ تعمیر کی گئی۔ مغلوں نے صدیوں پہلے انڈیا کے زیادہ تر حصوں پر حکمرانی کی۔
بھارت میں مودی حکومت نے ایک اور مسجد کا احترام پامال کر دیا،برطانوی میڈیا انڈیپندنٹ اور ڈان لندن کے مطابق انتہا پسند ہندووں نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں مورتیاں رکھ کر پوجا پوجا پاٹ شروع کر دی ہے۔ وارانسی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دی ہے۔جرمنی کے خبر رسان ادارے ڈبلیو ڈی کا کہنا ہے کہ کیا پوجا پاٹ کے بعد یہ مسجد رہ گیی ہے ؟’بھارتی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ دلیل دی کہ 1993 تک گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کی جا رہی تھی مگر اس وقت کی ریاستی حکومت کے حکم پر اسے روکا گیا۔‘ ان سے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو متھرا کی شاہی عید گاہ، دہلی کی سنہری مسجد اور ملک کی دیگر متعدد مساجد اور وقف املاک پر غیرمنطقی و بے بنیاد دعوے کر رہے ہیں۔‘انڈیا کے شمال میں واقع وراناسی شہر میں لگ بھگ تین صدیوں سے مسلمان اور ہندو ایک ایسی مسجد اور مندر میں اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرتے چلے آ رہے تھے جن کے درمیان صرف ایک دیوار حائل ہے۔ناقدین کا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اںڈیا کے مسلمانوں کو اکثریتی ہندو قوم پرستوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے اور یہ انڈیا میں مذہبی رواداری کو نقصان پہنچا کر اس کے سیکولر چہرے کو مسخ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں