81 سالہ امریکی صدر جوبائیڈن یادداشت کھو بیٹھے؟

لندن(انٹرنیشنل ایڈیٹر) امریکی صدر جوبائیڈن نے عوام سے اپنی تقریر میں 24 سال قبل انتقال کرجانے والے فرانسیسی صدر کو زندہ بنا دیا اور ان سے حال ہی ملاقات کا واقعہ بھی سنا دیا۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک جلسہ عام سے خطاب میں جوبائیڈن نے بتایا کہ وہ 2021 میں فرانس کے سابق صدر فرینکوئس مٹرینڈ سے ملے تھے۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ فرانسیسی صدر سے یہ ملاقات کافی خوشگوار رہی تھی اور یہ ملاقات میرے صدر بننے کے فوری بعد جی-7 ممالک کے اجلاس میں ہوئی تھی۔خیال رہے کہ جن فرانسیسی صدر کا زکر جوبائیڈن نے کیا، ان کا انتقال 1996 میں ہوچکا ہے جب کہ امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ ان سے 2021 میں ملاقات ہوئی ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن فرانس کے موجود صدر ایمانوئیل میکرون سے 2021 میں ملے تھے لیکن ان کا نام بھول گئے اور سابق فرانسیسی صدر فرینکوئس مٹرینڈ کا نام لے دیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی متعدد بار وہ اپنی تقریر میں مختلف صدور اور ممالک کو آپس میں گڈمڈ کرچکے ہیں جب کہ کئی موقع پر ان کی زبان بھی لڑکھڑا گئی تھی۔کہا جا رہا ہے کہ ایسا صدر جوبائیڈن کی عمر کی وجہ سے ہے کیوں کہ اب وہ 81 سال کے ہوچکے ہیں۔ اسی لیے ایک طبقہ جوبائیڈن کو مسلسل دوسری بار صدر بنانے کے بجائے آرام کا موقع دینے کے حق میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں