فرانس میں اسقاط حمل کو آئینی تحفظ ،دنیا کا پہلا ملک بن گیا

72 کے مقابلے میں 780 ووٹوں سے ترمیم منظور، خواتین کے لیے اسقاط حمل کے حق کی ’ضمانت‘ دی گئی ہے
لندن/فرانس:(ڈاکٹر اختر گلفام سے)فرانس اسقاط حمل کے حق کو آئینی تحفظ دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔
فرانسیسی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ نے 1958 کے آئین میں ترمیم کے لیے ووٹ دیا۔اجلاس کے دوران 72 کے مقابلے میں 780 ووٹوں سے ترمیم منظور کرلی گئی، اس کی منظوری کے بعد مشترکہ اجلاس میں شریک تقریبا تمام اراکین نے کافی دیر تک کھڑے رہ کر تالیاں بجائیں۔اس ترمیم میں خواتین کے لیے اسقاط حمل کے حق کی ’ضمانت‘ دی گئی ہے۔یاد رہے کہ فرانس میں 1975 سے ہی اسقاط حمل کو قانونی حیثیت مل چکی ہے، مگر سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 85 فیصد عوام نے اسقاط حمل کے حق کے تحفظ کے لیے آئینی ترمیم کی حمایت کی۔امریکا میں عدالتی فیصلوں میں اسقاط حمل کے حقوق کی واپسی کے فیصلے کے بعد خواتین کے حقوق کے کارکنوں نے صدر ایمانوئل میکرون کے اس اقدام کو سراہا ہے۔یاد رہے کہ 2022 میں امریکا نے اسقاط حمل کا حق دینے والے فیصلے کو منسوخ کردیا جسے امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک کے لیے ایک افسوسناک دن قرار دیا تھا۔
اس اقدام سے فرانس دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنے بنیادی قانون میں حمل کو ختم کرنے کے لیے واضح تحفظ فراہم کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں