فلسطینوں سے یکجحتی :برطانوی مسلمانوں کا ماہ رمضان میں اسرائیلی کھجوروں کا بائیکاٹ

اسرائیل سے برطانیہ سالانہ 30 ہزار ٹن کھجوریں درآمد کی جاتی ہیں ، مالیت 10 ملین ڈالرز بنتی ہے
سٹاف رپورٹرز
لندن:مسلمان عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے میٹھے پھل کجھور سے اپنا روزہ افطار کرتے ہیں۔برطانوی مسلمان عام طور پر سپر مارکیٹ کے لیبل چیک کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ خریدی گئی اشیا حلال ہیں تاہم اس رمضان میں وہ فلسطینوں سے اظہار یکجہتی کے لیے یہ بھی چیک کر رہے ہیں کہ ان کی کھجوریں کہاں اگائی جاتی ہیں۔
برطانیہ میں رہنے والوں مسلمان نے اس رمضان فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے آنے والی کھجوریں نہیں خریدیں گے اور اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ آگہی پھیلانے کے لیے پمفلٹس بانٹے جا رہے ہیں اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔اسرائیل سے برطانیہ سالانہ 30 ہزار ٹن کھجوریں درآمد کی جاتی ہیں جن کی مالیت 10 ملین ڈالرز بنتی ہے اور رمضان میں اس کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے تاہم اس سال ایسا نہیں ہے۔برطانیہ میں اسرائیل سے درآمد کردہ کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ شاپنگ مالز میں خریدار کھجوروں کے پیکٹس پر اسرائیل کا نام دیکھ کر اسے واپس رکھ دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ ہم میں سے اکثر یہی سمجھتے تھے کہ کھجوریں عرب ممالک سے آتی ہیں لیکن جب بائیکاٹ کے حامیوں نے آگاہی مہم چلائی تو یہ غلط فہمی دور ہوئی اور اب ہم اسرائیلی کھجور بالکل نہیں خریدیں گے۔فرینڈز آف الاقصیٰ (ایف او اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ مبینہ طور پر یورپ میں اسرائیلی کھجوروں کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اس نے 2020 میں اس نے اسرائیل سے تین ہزار ٹن سے زائد کھجوریں درآمد کیں جن کی مالیت تقریبا 75 لاکھ پاؤنڈ (96 لاکھ ڈالر) بنتی ہے۔14 سال سے زائد عرصے سے ایف او اے کا ادارہ#CheckTheLabel بائیکاٹ مہم چلا رہا ہے تاکہ ان صارفین میں شعور بیدار کیا جا سکے جو نادانستہ طور پر اسرائیلی کھجوریں خریدتے ہیں۔اس مہم میں رمضان کے دوران مسلمانوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس مہینے میں یورپ کے اندر اسرائیلی کھجور کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اپنی مہم کے ایک حصے کے طور پر، وکالت کرنے والے گروپ نے مقامی مساجد کے اماموں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ مقدس مہینے کے دوران اپنے خطبات میں بائیکاٹ پر بات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں