پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا عندیہ دے دیا

ڈونلڈ لو نے کانگریس میں حقائق بیان کر دیے، جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہارنے والا الزام لگاتا ہے،لندن میں پریس کانفرنس
سٹاف رپورٹر
لندن:پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت بحال کی جاءے ۔حکومت اس سے متعلق سوچے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن ہاءی کمیشن لندن میں منعقدہ پریس کانفرنس سے کیا۔اس موقع پر پاکستان کے ہاءی کمیشنرڈاکٹر فیصل بھی موجود تھے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پوری دنیا کہہ رہی ہے نیوکلئراور ہائیڈرو انرجی محفوظ توانائی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔وزیر خارجہ نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں یوم پاکستان کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے برسلز میں جوہری توانائی کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں جوہری توانائی سے متعلق اہم نکتہ اٹھایا، میرے مؤقف کی کئی عالمی رہنماؤں نے تائید کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری توانائی کے محفوظ استعمال سے متعلق اپنے تجربات دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کو تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ نیوکلئراور ہائیڈر وانرجی محفوظ توانائی کے حصول کا ذریعہ ہیں، عالمی مالیاتی اداروں کو جوہری توانائی کے منصوبوں میں تعاون کرنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترک ہم منصب سے برسلز میں ملاقات ہوئی، ترکیہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ جے ایف 17 بنایا اور ترکی کے ساتھ مل کر بھی ایک جہاز تیار کیا ہے۔ چین کی طرح ترکی بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام عالمی فورمز پر پاکستان اور چین اکھٹے ہوتے ہیں، ہم نے چینی وزیراعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 16 ماہ کی حکومت میں چین کے ساتھ سی فائیو پروجیکٹ کا معاہدہ ہوا، اس پروجیکٹ کے تحت 3 ہزار800 میگاواٹ بجلی بنائی جارہی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات سے پاکستان کو معاشی طور پر نقصان ہوا، ہمیں نیوکلیئر توانائی سے متعلق پالیسی کو آگے بڑھانا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو نے کانگریس میں حقائق بیان کیے ہیں، جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہارنے والا الزام لگاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر لانا ہے، ہم نے بلوچستان میں ہونے والے حملے کا حساب چکا دیا ہے، افغانستان سے حملے کا بھی بھرپور جواب دیا گیا، ہماری فورسز نے کامیاب ری ایکشن دیا، ہم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغانستان سے تعاون کو تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں