جرمنی میں پناہ گزینوں کے لیے اب نقد رقم کے بجائے پیمنٹ کارڈ،جرمنی سے باہر رقم منتقل نہیں کر سکیں گے

نئی قانون سازی کا مقصد جرمنی کو پناہ کے متلاشی افرادکے لیےکم ُپر کشش بنانا ، پناہ کے متلاشی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کم کرنا ہے
امیگریشن رپورٹر
برلن: جرمنی کی پارلیمنٹ نے آج جمعے کے روز سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ادائیگی کارڈ متعارف کرانے کی قانون سازی کی منظوری دے دی۔ یہ ایک ایسا نظام ہے ، جس کا مقصد نقد ادا کیے جانے والے فوائد کو محدود کرنا اور تارکین وطن کے لیے ملک کو کم ُپرکشش بنانا ہے۔ چانسلر اولاف شولس اور جرمنی کی 16 ریاستوں کے گورنروں نے اصولی طور پر نومبر کے اوائل میں اس نظام کو متعارف کرانے پر اتفاق کیا تھا۔
اس میں پناہ کے متلاشی افراد سے اپنے فوائد ایک کارڈ پر وصول کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جسے مقامی دکانوں اور خدمات میں ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف محدود مقدار میں نقد رقم نکال سکیں گے اور جرمنی سے باہر رقم منتقل نہیں کر سکیں گے۔ اس کا مقصد تارکین وطن کو بیرون ملک خاندان اور دوستوں یا اسمگلروں کو رقم بھیجنے سے روکنا ہے۔
یہ قانون سازی مقامی حکام کو مختلف صورتوں میں پناہ کے متلاشی افراد کو استثنیٰ دینے اور ان افراد کے لیے نقد رقم کی وصولی کی حد مقرر کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار فراہم کرتی ہے۔ جرمنی میں ہجرت کے حوالے سے رویہ سخت ہو گیا ہے کیونکہ یوکرین جنگ کی وجہ سے ہجرت کر کے آنے والوں اور سیاسی پناہ کی تلاش میں اس یورپی ملک کا رخ کرنے والوں کے لیے مقامی حکام کو رہائش کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں