برطانوی وزیراعظم کو اسرائیل کی حمایت مہنگی پڑ گئی، رشی سونک کی 10ڈاؤننگ اسٹریٹ کی عید ملن پارٹی تنازعے کا شکار ہو گئی

حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنماؤں سمیت کاروباری لیڈرز نے بھی عید ملن پارٹی کا بائیکاٹ کر دیا ہے

بائیکاٹ کرنے والوں کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے 10ڈاؤننگ اسٹریٹ نے نجی طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ذرائع
ڈاکٹر اختر گلفام سے
لندن: برطانوی وزیراعظم کو اسرائیل کی حمایت مہنگی پڑ گئی ۔اسرائیل کی حمایت پر برطانیہ میں وزیر اعظم کی رہایش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی عید ملن پارٹی تنازعے کا شکار ہو گئی۔
برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے عید ملن پارٹی تنازع کا شکار،کنزرویٹیو پارٹی کے رہنماؤں سمیت کاروباری رہنماؤں نے عید ملن پارٹی کے بائیکاٹ کر دیا،عید ملن پارٹی کا بائیکاٹ حکومت کی طرف سے اسرائیل کی حمایت پر کیا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں عید ملن کی تقریب منعقد کی، تاہم حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنماؤں سمیت کاروباری لیڈرز نے بھی عید ملن پارٹی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

بیرونس سعیدہ وارثی سمیت دو دیگر ٹوری اراکین پارلیمنٹ بھی عید ملن پارٹی کے بائیکاٹ کا ارادہ رکھتے ہیں، بی بی سی کا کہنا ہے کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ کی عید ملن پارٹی کا بائیکاٹ حکومت کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کرنے کے سبب کیا گیا ہے۔

یہ سالانہ تقریب وزیر اعظم رشی سنک کی میزبانی میں پیر کو ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہونے والی تھی، ایک حکومتی ترجمان نے فون پر ڈاکٹر اختر گلفام کو بتایا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے انسانی خدشات کو سمجھتے ہیں، استقبالیہ کا بائیکاٹ کرنے والوں کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ذرائع نے نجی طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ بیرونس وارثی نے 2014 میں ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں وزیر خارجہ کے عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ غزہ سے متعلق حکومت کی پالیسی ’’اخلاقی طور پر ناقابل دفاع‘‘ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں