بہادری کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی کے لیے آسٹریلوی شہریت

سڈنی کے شاپنگ سینٹر میں چاقو کے حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی سکیورٹی گارڈ کو شہریت دینے پر غور کر رہے ہیں،آسٹریلوی وزیر اعظم

انٹرنیشنل رپورٹر نواءے وقت

سڈنی:آسٹریلوی وزیر اعظم کے مطابق وہ سڈنی کے شاپنگ سینٹر میں چاقو کے حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی سکیورٹی گارڈ کو شہریت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
قبل ازیں گارڈ کی ملازمت کرنے والے محمد طحہ نے بھی مبینہ طور پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چاقو حملے میں زخمی ہونے کے بعد انہیں شہریت دینے پر غور کیا جائے گا۔

‘دا آسٹریلین‘ نامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے طحہ نے کہا کہ ان پر حملہ ان کے ساتھی پاکستانی سکیورٹی گارڈ فراز طاہر کو چاقو مارنے کے بعد کیا گیا۔ ویسٹ فیلڈ شاپنگ کمپلیکس کے حملے میں کُل چھ افراد مارے گئے تھے اور ان میں فراز طاہر بھی شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق طحہ کے پاس اس وقت اسٹڈی ویزا ہے، جو ایک ماہ سے بھی کم وقت میں ختم ہونے والا ہے۔ آسٹریلیا میں طحہ کی وہ ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ اُس ڈنڈے کی مدد سے حملہ آور کا مقابلہ کر رہے ہیں، جو عمومی طور پر پیدل چلنے والے راستوں پر لگایا جاتا ہے۔
ایک ریڈیو انٹرویو میں جب یہ پوچھا گیا کہ آیا آسٹریلوی حکومت طحہ کی شہریت کی درخواست کو قبول کرے گی تو وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا: ”ہاں، ہم ضرور کریں گے۔‘‘

وزیر اعظم البانیز نے فراز طاہر کے قتل کو بھی ایک ”المیہ‘‘ قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا، ” محمد طحہ وہ دوسرے شخص تھے، جنہوں نے ہفتے کے روز اُس آدمی، مجرم، جوئل کاؤچی کا سامنا کیا اور یہ بات غیر معمولی جرات کا اظہار ہے۔‘‘

البانیز نے مزید کہا کہ ان دونوں افراد نے ان آسٹریلوی باشندوں کی حفاظت کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا، جنہیں وہ خود نہیں جانتے تھے، ”یہ اس قسم کی ہمت ہے، جس کا ہم شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں